Urdu

زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی کا معاملہ ، سپریم کورٹ نے تمام سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ طلب کرلیا

کراچی: سپریم کورٹ رجسٹری میں زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی کا معاملے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس پر سپریم کورٹ نے تمام سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ طلب کرلیا اور صوبے بھر میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم جاری کردیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جاۓ کتنے رفاعی پلاٹس، پارکس، سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی ؟ عدالت نے محکمہ آب پاشی ، جنگلات اور دیگر محکموں کی زمینیں بھی واگزار کرانے کا حکم بھی دیا۔ سپریم کورٹ نے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو زمینوں پر قبضہ کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

دوران سماعت سینئر ممبر بورڈ آر ریونیو نے عدالت کو بتایا کہ ہم سات کروڑ فائلوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کرچکے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ متوازی فائلیں چل رہی ہیں روز جعلسازی سامنے آتی ہے، مختیار کار اپنے دفتر اور گھر میں ریکارڈ بناتے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھٹہ میں تو بہت گڑبڑ ہے ہر ایک نے وہاں مرضی سے ریکارڑ بنایا ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے عدالت کو بتایا کہ ٹریکنگ کوڈ کے زریعے 1985 تک ریکارڈ آن لائن دیکھا جاسکتا ہے، کمپیوٹرائزیشن کے دوران 2 لاکھ 45 ہزار ریکارڈ جعلی نکلا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ آپ سپر ہائی وے پر چلے جائیں آپ کو قبضہ نظر آجاۓ گا کتنی زمینوں پر قبضہ ہے، سرکاری زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات بھری پڑی ہیں، پورے کا ہورا شہر آباد ہورہا ہے ، یونیورسٹی روڈ پر آگے جائیں سب بھرا پڑا ہے غیر قانونی تعمیرات سے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دئے کہ طملیر جاہیں دیکھیں غیرقانونی دیواریں کھڑی ہوئی ہیں، ایک نہیں درجنوں پندرہ پندرہ منزلہ عمارتیں سرکاری زمینوں پر بن گئی ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کتنے عرصہ سے ہیں آپ سینئر ممبر ؟ آپ کچھ کر کے دکھائیں، بتائیں کتنی سرکاری زمینیں واگزار کرائی، آپ کو حکم کی ضرورت نہیں یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے عدالت کو بتایا کہ ملیر میں حال ہی میں ایک ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close