Urdu

سندھ ہائیکورٹ:این آئی سی وی ڈی میں 30 سے زائد افسران کی تعیناتی غیر قانونی ہونے انکشاف

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں این آئی سی وی ڈی میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں اور نیب نے ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈاکٹر ندیم قمر کی درخواستوں پر تحریری جواب جمع کرادیا جس کے مطابق این آئی سی وی ڈی میں 30 سے زائد افسران کی تعیناتی غیر قانونی ہونے انکشاف ہوا۔ نیب کے مطابق انکوائری ڈاکٹر جیسے معزز پیشے کے وابستہ لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن کے الزامات پر انتظامیہ کے خلاف اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی غیر قانونی تعیناتی انتظامی افسران کی غیر قانونی تعیناتی تنخواہوں اور کِک بیک کمیشن وصول کرنے سے متعلق جاری ہے،نیب کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے 2014 سے 2020 تک اسپتال کو 32 ارب روپے کی فنڈر دیے گئے ،15 ارب روپے ڈاکٹرز،آفیشل اور ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں جاری کیے گئے تاہم ہر سال تنخواہوں میں اضافہ اور مریضوں کے علاج میں کمی ہورہی ہے ،جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ فنڈز ڈاکٹر ندیم قمر اور دیگر انتظامیہ نے ہوٹل کے کرایے،ہوٹلنگ،گاڑیوں کے کرائے و دیگر مد میں خرچ کئے گئے۔ نیب نے موقف اختیار کیا کہ ملک اور صوبے کی عوام کو علاج فراہم کرنا اچھی بات ہے ، تاہم علاج کی آڑ میں کرپشن اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، نیب کے جواب کے مطابق این آئی سی وی ڈی انتظامیہ نے سیپرا رولز کی خلاف ورزی کی ، من پسند افراد کو ٹھیکے دئیے گئے ہیں، نیب نے استدعا کی کہ درخواست گزار کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے مسترد کی جائے، ڈاکٹر ندیم قمر نے عدالت سے حقائق چھپائے اورندیم قمر کی جانب سے نیب پر لگائے گئے الزامات غلط بے بنیاد ہیں۔ نیب نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر ندیم قمر کے خلاف 2016 میں شکایت موصول ہوئی تھی ، نیب کراچی کو انکوئری کی منظوری دی گئی تھی تاہم انکوئری 2017 میں اینٹی کرپشن کو منتقل ہوگئی تھی اس کے بعد این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کے خلاف 2018 میں مزید شکایات موصول ہوئی اور ‎2019 میں انکوئری شروع کی جس میں این آئی سی وی ڈی میں تعیناتیوں،تنخواہوں،سے متعلق معلومات مانگی گئی نیب، نے عدالت کو بتایا کہ این آئی سی وی ڈی سے 2014 سے 2019 تک کا ریکارڈ مانگا گیا تھا ،نیب کے جمع کرائے گئے جواب کے مطابق چئیرمین نیب نے اگست 2020 میں انکوئری کی دوبارہ منظوری دی تھی اور اس حوالے سے محکمہ صحت کو فوکل پرسن مقرر کرنے کے لئے خط لکھ گیا تھا ،جواب کے مطابق اس حوالے سے نقول چیف سیکریٹری سندھ کو بھی ارسال کی گئی کہ ایکشن لیا جائے تاہم چیف سیکریٹری سندھ نے اس حوالے سے کوئی ایکشن نہیں لیا ،جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ محکمہ صحت این آئی سی وی ڈی سے متعلق ریکارڈ فراہم نہیں کررہا ہے ،انکوئری آفیسر دیگر دو افسران کے ہمراہ این آئی سی وی ڈی گئے تو ایچ آر آفس کے باہر سیکنڑوں ملازمین جمع ہوگئے ،ایچ آئی آر آفس اسپتال کی مین بلڈنگ سے دو تین سو میٹر دور ہے پھر بھی ملازمین نے نیب کے خلاف نعرے بازی شروع کردی ،جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ این آئی سی وی ڈی میجمنٹ ریکارڈ فراہم کرنے سے متعلق غلط بیانی کررہی ہے اور درخواست گزار نیب سے تعاون کے بجائے عدالت سے رجوع کرلیا ہے، نیب کا کہنا ہے کہ کال اپ نوٹس کے دو ماہ بعد ریکارڈ فراہم کیا گیا وہ بھی غلط ہے اور این آئی سی وی ڈی انتظامیہ ریکارڈ فراہم کرنے میں تاخیری حربے میں استعمال کررہے نیب

یہ بھی پڑھیں
جناح کارڈیو میں غیر قانونی بھرتیوں، زکواة اور فنڈز کی مد میں جاری رقم کرپشن کی نظر ہونے کا انکشاف

نیب کے ہاتھوں گرفتاری کا خوف، این آئی سی وی ڈی کے تین ڈاکٹرز نے عبوری ضمانت حاصل کرلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close