Urdu

سکھر پولیس مقابلے میں ہلاک ڈاکو عرفان خروس پر قائم مقدمات کی تفصیل منظر عام پر، کراچی میں بھی واردات کی

سکھر: جھانگڑو میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ڈاکو عرفان خروس پر قائم مقدمات کی تفصیل منظر عام پر آگئی ہے۔ ڈاکو عرفان خروس کو مخصوص ملک دشمن عناصر ایک معصوم بے گناہ کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ ریجنل ٹیلی گراف کو معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ڈاکو عرفان خروس اپنے بھائی ساجد اور خاندان کے دیگر افراد سے مل سندھ کے متعدد اضلاع میں درجنوں سنگین وارداتوں میں ملوث تھا جبکہ سوشل میڈیا پہ اینٹی اسٹیٹ ایلیمینٹ بنا تصدیق اور حقائق کو مسخ کرکے ڈاکو کو معصوم اور بے گناہ تصور کر رہیں ہیں ، اور پولیس کے خلاف منگھڑت بے بنیاد کہانیاں بنا بنا کر پیش کرکے لوگوں کو اس متعلق گھمرا کرکے پولیس کو بدنام کر رہیں ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکو عرفان خروس پر سندھ کے بیشتر اضلاع میں 26 سے زائد سنگین مقدمات ہیں

ہلاک ڈاکو کے بھائی ساجد خروس پہ سنگین نوعیت کے 15 سے زائد مقدمات جو سندھ سندھ کے بیشتر اضلاع میں درج ہیں متعدد میں مطلوب و چالان ہیں

ہلاک ڈاکو عرفان کے دوسرے بھائی ماجد پہ 3 مقدمات درج ہیں تیسرے بھائی راشد پہ بھی سنگین نوعیت کے 3 مقدمات میں مطلوب ہے جبکہ چھوٹے بھائی غلام نبی ایک کیس میں پولیس کو مطلوب ہے

عرفان خروس نے 2 فیبروری 2014 کو لاڑکانہ کے علاقے رتودیرو میں اپنے گینگ کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ڈسٹرکٹ بار کے صدر اطہر عباس سولنگی کو اغواء کرکے سخت تشدد کا نشانہ بنایا اور 20 لاکھ تاوان طلب کیا تاوان کی ادائیگی نہ ہونے پہ ملزمان نے اطہر عباس کو جیکب آباد کے نواحی علاقے میں اتار کر کرولا کار ماڈل 2014 اور 570000 کیش چھین کر موقع سے فرار ہوگئے

ایک اور واردات میں ملزمان نے جامشورو کے علاقے میں حمید باجوہ نامی شہری سے کلٹس کار ماڈل 2018، موبائل فون اور کیش و دیگر قیمتی اشیاء چھین کر فرار ہوگئے

21 فیبروری 2014 کو ہلاک ڈاکو اپنے دیگر ساتھیوں ساجد اور پرویز سے مل کر مٹھل سولنگی سے کنڈھیارو لنک روڈ کے قریب ڈکیتی کی واردات کی ٹریکٹر سمیت دیگر قیمتی اشیاء چھین کر موقع سے فرار ہوگئے

ہلاک ڈاکو نے سال 2019 میں اپنے بھائی و گینگ کے دیگر ملزمان کے ہمراہ اولڈ نیشنل ہائی وے کنب ضلع خیرپور کے قریب ڈاکٹر ماجد وسان سے کرولہ کار ماڈل 2018 نقدی سمیت قیمتی سامان چھین کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے تھے

ملزمان نے رواں سال جنوری میں جامشورو کے علاقے سے شہری زاہد سومرو سے ٹویوٹو کار ماڈل 2018 نمبر BNN-722 اور موبائل فون نقدی چھین کر فرار ہوگئے تھے

ہلاک ڈاکو نے سال جنوری میں حیدرآباد کے علاقے ہٹری سے شہری فرحان شاہ سے کار کرولہ ماڈل 2015 چھین کر فرار ہوئے

ہلاک ڈاکو نے رواں سال فیبروری میں میرپور خاص کے کے علاقے اولڈ میرپور خاص میں بھی شہری جاوید ملک سے ڈکیتی کی واردات کی موقع سے مدعی سے کار کرولہ ماڈل 2019 نمبر BPC-371 چھین کر فرار ہوگئے تھے

سال 2019 میں ڈاکو نے اپنے گینگ کے ہمراہ سیوھن کے علاقے سے بھی ڈکیتی کی واردات کی ، ملزمان نے شہری اعجاز علی سے اسلے کے زور پہ ٹریکٹر اور دو لاکھ کیش چھینے مزاحمت پہ سخت تشدد کا نشانہ بنایا اور فرار ہوگئے

سال 2015 میں پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ڈاکو نے کراچی کے تھانہ برگیڈ کی حدود میں گھر سے چوری کی واردات کی

ڈاکو نے کراچی کے شہری اویس خان کے گھر سے زیورات سونا کیش اور دیگر سامان چوری کرکے فرار ہوگئے تھے واقعہ کا مقدمہ بھی تھانہ برگیڈ میں درج ہے

ہلاک ڈاکو عرفان اپنے بھائیوں اور گینگ کے دیگر ساتھیوں سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں ڈکیتی چوری کار اسنیچنگ ہاؤس رابری پولیس مقابلوں سمیت دیگر وارداتوں میں اب تک 27 سے زائد مقدمات میں مطلوب تھا جس کی کرمنل رکارڈ کی تفصیل ابھی بھی ریگر اضلاع سے حاصل کی جا رہی ہے

ہلاک ڈاکو طالب علمی کا لبادہ اوڑھے گزشتہ 10 سالوں سے جرائم کی دنیا سے وابسطہ ایک خطرناک ڈاکو بن کے شہریوں کو لوٹتا رہا لیکن ملک دشمن عناصر آج بھی اسے ایک معصوم بے گناہ شہری ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close