Urdu

عثمان کاکڑ اچکزئی گروپ سے لڑائی کا نشانہ بنے

کراچی: محمود خان اچکزئی کی پارٹی ان کی ذاتی اور خاندانی ملکیت ہے۔عثمان خان کاکڑ کو پارٹی کے اندر اچکزیوں نے بہت ٹارچر کیا تھا۔ اس بات کا انکشاف ایک وائرل پوسٹ میں کیا گیا ہے جسے گلالئی کاکڑ سے منسوب کیا جارہا ہے۔

وائرل پوسٹ کے مطابق اچکزئئ کے پرائیوٹ غنڈے عثمان کو کاکڑستان کا لیڈر کہتے تھے۔اچکزئی مہاجر کمپنی ریاض خان کاکڑ نواب ایاز اور عثمان کاکڑ کو ہمیشہ ٹارچر کرتے رہے اور کئی بار مہاجر غنڈوں نے پارٹی کے کاکڑ رہنماوں پہ بدمعاشی اور غنڈہ گردی بھی کی ہے۔پارٹی کے سارے کارکن اس حقیقت سے واقف ہیں۔

پوسٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ عثمان خان کاکڑ ان کا خصوصی ٹارگٹ تھا۔خود محمود خان اچکزئی بھی دل میں عثمان کاکڑ سے بغض رکھتے تھے۔محمودخان کو خدشہ تھا کہ عثمان کاکڑ کے پاس پارٹی کے اندر اور پارٹی سے باہر لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔کہیں یہ پارٹی کا چیرمین نہ بنے۔محمود خان کے شہہ پہ پارٹی کے اندر عثمان کے خلاف غنڈوں کا ایک بہت بڑا بلاک بنا تھا۔غنڈوں کا یہ بلاک عثمان کو ایجنسیوں کا آدمی کاکڑستان کا نمائندہ جیسے القابات سے نوازتے۔آخری دنوں میں اختلافات یہاں تک پہنچے کہ محمودخان عثمان کاکڑ کو پارٹی سے نکالنے پہ سوچ رہے تھے۔

اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مجید خان اچکزئی نے فون پہ عثمان کاکڑ کو موت کی دھمکیاں دی۔اخری جملہ یہ تھا۔تمھارا پارٹی پہ قبضہ کرنے کا خواب کھبی پورا نہیں ہوگا۔ان غنڈوں نے بڑی بےدردی اور بےشرمی سے کاکڑ قوم کا ایک بہادر اور قابل شخصیت کو راستے سے ہٹایا۔اب عثمان کی موت پہ اچکزئی فیملی سیاست چمکائے گی۔کیونکہ ان کے راستے میں اب کاکڑ قبیلے کا ایک بہادر شخص روکاوٹ نہیں ہے۔اب اچکزئی فیملی پشتون قوم کے نام پہ بنائی گئی پارٹی کا سہارا لیکر راج کرے گی اور سیاسی فوائد سمٹے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close