Urdu

وزارت نجکاری کا کے ای ایس سی نجکاری معاہدے خفیہ رکھنے کا بڑا اعتراف

کراچی: کے ای ایس سی کی نجکاری کی منظور شدہ شقوں میں ترمیم کے معاملے کو لے کر بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے اور کے ای ایس سی نجکاری کی تفصیلات پبلک کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن نے تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے مطابق وزارت نجکاری نے کے ای ایس سی نجکاری معاہدے خفیہ رکھنے کا بڑا اعتراف کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ کے ای ایس سی نجکاری معاہدے کی تفصیلات پبلک نہیں کر سکتے۔ وزارت نجکاری کے مطابق معاہدہ خفیہ رکھنے کے لیے باقاعدہ شق شامل کی گئی تھیں اور اگر معاہدہ پبلک کردیا تو پرائیوٹ پارٹی کے عالمی ثالثی عدالت جانے کا خدشہ ہے اور جس کے نتیجے میں معاہدے کی خلاف ورزی پر ملک کو بڑے مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کے ای ایس سی نجکاری سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کی اہم ابزوریشن سامنے آئی ہے اور کمیشن نے معاہدے کو خفیہ رکھنے کی شق کے حوالے سے اظہار بے بسی ظاہر کیا ہے ۔ کمشین کا کہنا ہے کہ معاہدے میں خفیہ شق کے باعث معاہدہ پبلک نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں سیکرٹری نجکاری کو اداروں کی نجکاری کے معاہدوں میں توازن رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ نجکاری معاہدوں میں نجی اداروں کے کمرشل اور عوام الناس کے مفاد میں نہ صرف توازن رکھنا جائے بلکہ نجکاری معاہدوں میں شہریوں کو معلومات تک رسائی قانون کو مد نظر رکھا جائے۔ کمیشن نے ہدایت کی کہ وزرات نجکاری معلومات تک رسائی کی آگاہی کی تفصیلات ویب سائیٹ پر جاری کرے اور اس حوالے سے کمیشن کا وزرات نجکاری کو ایک ماہ میں فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ کمیشن نے اپنا فیصلہ سیکرٹری وزیراعظم، سیکرٹری نجکاری کو بھی ارسال کردیا ہے۔

سینئر وکیل طارق منصور کی دائر درخواست کے مطابق دو ہزار پانچ میں کے ای ایس سی کی نجکاری کا معاہدہ ہوا اور 2008 اور 2009میں خلاف ضابطہ معاہدے برائے ناقابل تنسیخ چھوٹ و رضامندی کیے گئے۔ درخواست کے مطابق کے ای ایس سی معاہدہ نجکاری کی تسلیم شدہ شقوں میں ترمیم کے لیے گیا گیا اور ترمیم شدہ معاہدہ خلاف آئین و قانون کیا گیا۔ طارق منصور ایڈووکیٹ کے مطابق بادی النظر میں 2008، 2009 ترامیمی معاہدہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا۔
اس درخواست کی سماعت سماعت چیف انفارمیشن کمشنر محمد اعظم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جبکہ ممبران میں فواد ملک اور زاہد عبداللہ شامل تھے۔

M-Tariq-Mansoor-Vs-Privatisation-Commission-ke-matter-final-order

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close