Urdu

رنچھوڑلائن میں غیرقانونی تعمیر شدہ عمارت گرنے کا ذمہ دار سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قرار

کراچی:ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)نے رنچھوڑلائن میں غیرقانونی طورپر تعمیرکی جانے والی عمارت گرنے کا ذمہ دار سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو قرار دیتے ہوئےکہاہےکہ ایس بی سی اے کی ناک کے نیچےطویل عرصے سے شہر میں غیرقانونی اور غیرمعیارتی کنسٹرکشن جاری ہے جو شہر میں کسی بھی بڑے سانحے کی وجوہ بن سکتی ہے۔

کراچی: رنچھوڑ لائن کے علاقے میں چھ منزلہ عمارت گر گئی،

کراچی:رنچھوڑ لائن کے علاقے میں چھ منزلہ عمارت گر گئی، عمارت ایمرجنسی میں مکینوں سے خالی کروادی گئی تھی کنکشن منقطع کردیے گئے تھےکوئی جانی نقصان نہیں ہوا

Posted by Regional Telegraph on Monday, December 30, 2019

آباد کے چئیرمین محسن شیخانی نے کہاہے کہ آباد کے پلیٹ فارم سے کراچی میں غیرقانونی اور ناقص میٹرئیل کی عمارتوں کی دھڑادھڑ تعمیرات کی انسداد باقاعدہ مہم جاری ہے اور اس سلسلے میں آباد نے وزیراعلی سندھ، وزیربلدیات سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری بلدیات اور نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی کوباقاعدہ خطوط ارسال کرکے اس امر کی جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ شہر میں غیرقانونی عمارتوں کی کھلے عام تعمیرات کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں شہرکے10لاکھ افراد کو لقمہ اجل بناسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ توجہ دلانےکے خطوط کے علاوہ دیگرذرائع سے آگاہی کے باوجود متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں نے تاحال اس ضمن میں کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائےہیں۔

انہوں نے رینچھوڑلائین میں مزکورہ عمارت گرنے کے بعد ایس بی سی اےحکام کی جانب سےبروقت اقدامات کے دعوے کےموقف پرحیرت کا اظہارکرتے ہوئے استفسارکیاکہ جب یہ عمارت غیرقانونی طورپرتعمیرکی جارہی تھی اس وقت ایس بی سی اے کہاں تھی۔انہوں نے کہاکہ مزکورہ گرنے والی عمارت کی تحقیاتی عمل کے دوران اسے اجازت دینے والے افسرکی نشاندہی کی جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے کیونکہ خوش قسمتی سے اس گرنے والی عمارت میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن اس عمارت میں اپنی رہائش کےلیےبھاری رقومات اداکرنے والے مالی نقصان کی زد میں آکر اپنی زندگی بھرکی پونجی سے محروم ہوگئے ہیں۔انہوں نےکہاکہ قائم کردہ انکوائری کمیٹی کوتمام زاوئیوں سےمعاملےکی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے اورجو ذمہ دار ہو اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close