Urdu

سینئر صحافی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ملنے والی سزا ہائی کورٹ میں چیلنج

کراچی: ممبر کراچی پریس کلب و سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری نے انسداد دہشت گردی سے ملنے والی  سزا کو سندھ ہائی کورٹ میں  چیلنچ کردیا ہے۔ یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج منیر بھٹو نے 26دسمبر 2019کو سزا انہیں مبینہ ممنوعہ لٹریچر رکھنے کے الزام میں 5سال قید، 10ہزار جرمانہ کی سزا سنائی تھی جبکہ عدم ادائیگی پر مزید ایک ماہ سزا کا حکم دیا گیا تھا۔

سینئر صحافی اور روزنامہ نئی بات کے سب ایڈیٹر نصر اللہ خان کو تین روز کی جبری گمشدگی کے بعد عدالت میں پیش کردیا گیا، ایک طرف ان کی پیشی خوش آئند ہے، قانون کے مطابق گرفتاری اور پیشی پر کسی کو اعتراض نہیں، تو دوسری طرف ان کی اور ان کی طرح ریاست پاکستان کے سینکڑوں ہزاروں باشندوں کی جبری گمشدگی، مہینوں لاپتہ رکھنا، خفیہ عقوبت خانوں میں تشدد کے بعد رہائی یا لاشوں کا ملنا انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ ہماری اداروں سے درخواست ہے کہ جس پر جو الزام ہو اس کے مطابق اس قانونی طریقہ سے گرفتار کیا جائے اور عدالتی عمل سے گزارا جائے، بصورت دیگر ریاست اور اداروں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوگا۔ قانون سے بالا تر، ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے والوں کی جوابدہی ضروری ہے۔ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نصراللہ خان کی طرح رات کے اندھیرے میں بلاجواز لاپتہ کئے گئے طارق جمیل غوری کو بھی فوری طور پر رہا یا عدالت میں پیش کیا جائے۔

Posted by Muhammad Tariq Khan on Monday, November 12, 2018

اپنی درخواست میں نصر اللہ چوہدری نے استدعا کی ہے کہ انسداددہشت گردی عدالت کا فیصلہ بنیادی قانون کے اصول کے برخلاف اور حقائق کے منافی ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار7نومبر 2018کو کراچی پریس کلب میں غیر قانونی داخل ہوئے،صحافیوں کو ہراساں اور دھمکایا گیا،  اور 8نومبر 2018کی شب انہیں گھر سے غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ میری گرفتاری پر کراچی پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا گیا جبکہ سی ٹی ڈی نے تین روز تک  غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد چھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں نامزد کردیا۔  انہوں نے اپیل مں کہ ہے کہ استغاثہ اپناکیس ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، ممنوعہ لٹریچر سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے، عدالت نے ان کی غیر قانونی حراست کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے سزا سنائی۔

دوسری جانب اس حوالے سے  صحافتی تنظیموں کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔ پاکستان یونین آف جرنلسٹس اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے  مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صحافی کو ممنوعہ لٹریچر رکھنے پر سزا قابل مذمت  اور  دنیا کی منفرد مثال ہے، نام و نہاد ممنوعہ لٹریچر رکھنے کا الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی پریس کلب ہمیشہ آزادی اظہار رائے کا نگہبان رہا،  حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے آزادی اظہار رائے کو دبانا چاہتی ہے،  بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ رکن کراچی پریس کلب کو 8 نومبر 2018 کو غیر قانونی تحویل میں لیا گیا، اور بھرپور احتجاج پر جھوٹا مقدمہ بنا کر پیش کر دیا گیا۔ بیان میں صحافیوں کو ہراساں کرنا، دھمکیوں اور تشدد پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بیان کے مطابق صحافیوں پر تشدد کے واقعات سندھ کے متعدد اضلاع میں رپورٹ ہوچکے، چیف جسٹس پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے  نوٹس لینے کی اپیل کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close