Urdu

لاک ڈاون کے بعد دو ماہ شکار پر پابندی، کاروبار کی بندش سے ماہی گیر فاقہ کشی پر مجبور

کراچی: ماہی گیروں کیلئےایک اور کڑا امتحان شروع ہو گیا ہے جس کے باعث سی فوڈ ایکسپورٹ بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو چلا ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی جون جولائی کے مہینے میں سمندر میں شکار پر 2 ماہ پابندی عائد کئے جانے کا امکان ہے اور ماہرین کے مطابق مچھلی بچے کی افزائش کی وجہ سے شکار پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ تاہم ماہی گیروں کا موقف ہے کہ مسلسل کاروبار بندش سے ماہی گیر فاقہ کشی پر مجبور ہوجائیں گے لہذا سندھ حکومت سے درخواست کریں گے پابندی ختم کی جائے۔ چئیرمین فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی عبدالبر کے مطابق وزیراعلی سندھ کوخط لکھ دیا ہے کہ پابندی ختم کرنے سے متعلق فیصلے پرنظر ثانی کی جائے کیونکہ ان کے پاس اختیار ہے کہ وہ پابندی ختم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کی جانب سے بھی پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ عبدالبر کے مطابق گزشتہ سال سمندری طوفان پھر ڈیپ سی فشنگ پالیسی سمیت مچھلی شکار پر پابندی سے کاروبار متاثر ہوا اور اس سال مسلسل 2ماہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بندرہا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کےلاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد 20روز قبل فشریز کو حفاظتی انتظامات کے ساتھ کھولا گیا اور مچھلی شکار سمیت خریداری اور مال منتفلی کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد کیا گیا۔ پہلی بار 12 اپریل پھر 20اپریل کو فشریز کو بند کیا گیا تھا تاہم ایس اوپیز پر عمل درآمد کے بعد دوبارہ اسے کھولا گیا اور اس دوران کاروبار شدید متاثر رہا جس کے باعث بعض گھروں میں فاقوں تک کی نوبت پہنچ گئی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close