Urdu

عزیر بلوچ کا پی پی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا اعترافی بیان ریجنل ٹیلی گراف سامنے لے آیا

عزیر بلوچ کے حوالے سے منظر عام پر آنیوالی جے آئی ٹی رپورٹ سے پی پی قیادت کا ذکر سرے سے غائب ہے

کراچی: لیاری گینگ وار کے عزیر بلوچ نے بیان میں کن کن نام لیے تفصیلات ریجنل ٹیلی گراف کے ہاتھ لگ گئی ہیں، یادر ہے کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے 164 کا بیان جوڈیشل مجسٹریٹ ساوتھ کے سامنے 29 اپریل 2016 کو ریکارڈ کیا گیا تھا جس میں عزیر بلوچ نے پیپلزپارٹی قیادت کے ساتھ ساتھ ایرانی خفیہ ایجنسی کے لیے بھی کام کرنے کا اعتراف کیا تھا تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہ کے روز عزیر بلوچ کے حوالے سے منظر عام پر آنیوالی جے آئی ٹی رپورٹ سے پی پی قیادت کا ذکر سرے سے غائب ہے۔ عزیر بلوچ کو ملک سے غداری اور دہشت گردی کے مقدمات میں ملٹری کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر سزا سنا چکی ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ ساوتھ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق عزیر بلوچ کا کہنا تھا کہ حاجی ناصر نامی شخص نے ایران بارڈ کراس کرایا اور ایرانی انٹیلی جینس افسران سے ملاقات کرائی، ملاقات میں ایرانی اینٹلی جینس افسران کو نہ صرف کراچی میں اہم تنصیبات، آئی ایس آئی، ایم آئی کے نام بتائے بلکہ 5 کور ہیڈ کوارٹرز، رہائشگاہ کمانڈر 5 کور، نیول ہیڈکوارٹرز کارساز اور اسٹیشن ہیڈکوارٹر کراچی کے نقشے ایرانی اینٹلی جینس کو فراہم کیے۔ عزیر بلوچ کے مطابق انکشافات کے بعد آصف زرداری، فریال تالپور، قادر پٹیل اور دیگر سے مجھے اور میری فیملی خطرہ ہے، خدشہ ہے جن افراد کے قتل وغارت گری، زمینوں پر قبضے اور بھتہ خوری میں ملوث ہونے میں جن کے نام ظاہر کیے وہ قتل کرادیں گے۔ عزیر بلوچ کے اعترافی بیان کے مطابق اس نے آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگھن اور فیصل رضا عابدی کے کہنے پر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور لیاری میں امن کمیٹی کے نام پر تنظیم قائم کی۔ عزیر بلوچ کا کہنا تھا کہ گینگ وار کے لیے اسلحہ کوئٹہ اور پشین سے لایا جاتا تھا جبکہ کراچی میں قتل غارت گری، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے لیے مرضی کے پولیس اہلکار اور افسران لگوائے اور میرے کہنے پر ڈاکٹر سعید بلوچ اور نثار مورائی کو فشریز میں لگوایا گیا۔ عزیر بلوچ نے اعتراف کیا کہ فشریز سے ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ فریال تالپور اور 20 لاکھ روپے مجھے بھتہ ملتا تھا، سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ، فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر میری ہیڈ منی ( سر کی قیمت) ختم کردی گئی، 2013 کے الیکشن مین فریال تالپور سے رابطے میں تھا، اور میرے کہنے پر شاہ جہاں بلوچ، جاوید ناگوری، عبداللہ بلوچ اور ثانیہ ناز کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا۔ اعترافی بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2013 میں کراچی آپریشن میں تیزی کے پیش نظر فریال تالپور نے ایم این اے قادر پٹیل اور فریال تالپور کے زریعے اپنے گھر بلایا، شرجیل میمن اور عزیر بلوچ پہلے سے فریال تالپور کے گھر موجود تھے اور ملاقات میں فریال تالپور نے اسلحہ اور بارود چھپانے اور باقی معاملات شرجیل میمن اور نثار مورائی کے حوالے کیے۔ عزیر بلوچ کے مطابق قادر پیٹل کے کہنے پر قتل کیے اور سرکاری زمینوں پر قبضے میں ان کی مدد کی، 500 جرائم پیشہ افراد سرکاری ملازمتیں دلوائیں، اویس مظفر ٹپی اور آصف زرداری کی شوگر ملوں پر قبضہ میں مدد کی، بلاول ہاؤس کراچی کے قریب لڑکے بھیج کر لوگوں حراساں کیا اور بلاول ہاؤس کے اطراف میں لوگ تنگ کیا جس کے باعث لوگ سستے میں اپنے گھر بیچ کر چلے گئے

یہ بھی پڑھیں: عزیر بلوچ جیل سےجرائم پیشہ نیٹ ورک چلانے کی اطلاع پر رینجرز کے میٹھا رام ہاسٹل منتقل

یہ بھی پڑھیں: عزیر بلوچ کو بچانے کیلئے پولیس کے تاخیروں حربوں پر عدالت برہم، تفتیشی افسر کو پیش ہونے کا حکم

یہ بھی پڑھیں: لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ فوجی عدالت میں ٹرائل مکمل ہونے پر کراچی جیل منتقل

یہ بھی پڑھیں: سینٹرل جیل کے حولالدار سمیت چار شہریوں کے عزیر بلوچ کے ہاتھوں قتل کا انکشاف

Also Read: Uzair Baloch’s Conviction By Military Court Challenged in SHC

Also Read: SHC Orders To Make Public JIT Reports Of Baldia, Nisar Morai & Uzair Baloch

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close