Urdu

سندھ ہائیکورٹ کی آبزرویشن دستیاب شواہد سے مطابقت نہیں رکھتی، اہم شواہد اور حقائق کو نظر انداز کیا، سپریم کورٹ کا عادل زمان ضمانت منسوخی کا تفصیلی فیصلہ جاری

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے اینکر مرید عباس قتل کیس کے اہم ملزم عادل زمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ عینی شاہدین عمر ریحان اور اسامہ کے مطابق عادل زمان موقع پر موجود تھا، عادل زمان خضر حیات اور مرید عباس کے قتل کی واردات کے وقت عاطف زمان کے ساتھ تھا اور ملزم کو گواہوں نے شناخت پریڈ کے دوران شناخت بھی کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی وی اینکر مرید عباس قتل کیس، ملزم عادل زمان ضمانت خارج ہونے پر سپریم کورٹ سے فرار

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ واردات میں اسلحہ بھی عادل زمان کا استعمال ہوا ، دستیاب شواہد عادل زمان کو عاطف زمان کا شریک ملزم ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت پر رہائی کا ناجائز استعمال کرنا الگ معاملہ ہے اور ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد ہونا الگ معاملہ، عادل زمان کے خلاف تسلیم شدہ حقائق بیان کیئے گیے، اگر تسلیم شدہ حقائق کو نظر انداز کرکے غیر متعلق بنیاد پر ضمانت منظور کی جاۓ تو اعلی عدالت کا ضمانت منسوخ کرنے کا حکم بلا جواز نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اینکر مرید عباس قتل کیس کے مرکزی ملزم عاطف زمان کی جانب سے صلح کے لیے کوشش

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ کی آبزرویشن دستیاب شواہد سے مطابقت نہیں رکھتی، ہائی کورٹ نے ضمانت دیتے ہوے کئی اہم شواہد اور حقائق کو نظر انداز کیا لہذا ہائی کورٹ کی جانب سے عادل زمان کی ضمانت کا حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے، ٹرائل کورٹ آزادانہ ٹرائل کرکے کیس کا فیصلہ سناۓ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close