Urdu

آٹھ سال بعد سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ ، رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت ، روف صدیقی بری، حماد صدیقی مفرور قرار

کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 8سال بعد سانحہ بلدیہ ٹاون فیکٹری کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے اور رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنادی ہے جبکہ ادیب خانم ،علی حسن قادری ،عبد الستار روف صدیقی کو بری کردیا ،اس کے علاوہ باقی چار ملزمان کو سہولت کاری میں عمر قید کی سزا سنادی ہے جن میں علی محمد،ارشد،فضل اورفاروق شامل ہیں جبکہ سانحہ بلدیہ کیس میں حمادصدیقی کومفرور قرار دے دیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ سیکڑوں لوگوں کو زندہ جلانے کے الزام میں رحمن بھولا اور زبیر چریا کو 264بار پھانسی دی جائے

کراچی: بدلیہ فیکٹری کیس میں کب کیا ہوا :

آٹھ سال ايک سو ستر سماعتيں ہوئیں انسداددہشت گردی عدالت ميں ملکی تاريخ کا اہم مقدمہ انجام کو پہنچاکيس کی شروعات سے انجام تک کئی موڑ آئے 11 ستمبر2012 کو ڈھائی سو خاندانوں پرقيامت ٹوٹی 12 ستمبر 2012 فيکٹري مالکان کے خلاف ہی مقدمہ درج کرليا گیا14 ستمبر2014 فيکٹري مالکان عبدالعزيز بھائلہ، ارشد بھائلہ اورراشد بھائلہ نے سندھ ہائيکورٹ سے ضمانت حاصل کیعوامی دباؤ بڑھا تو سندھ حکومت نےسندھ ہائيکورٹ کےسابق جج زاہد قربان کی سربراہی ميں تحقيقاتی ٹريبونل قائم کردياتحقيقاتی ٹربيونل نے واقعے کو شارٹ سرکٹ کا نتيجہ قرار ديا واقعہ بھانڈااُس وقت پھوٹا جب ايم کيو ايم کارکن رضوان قريشی کيخلاف تفتيشی رپورٹ عدالت ميں جمع کی گئی7 فروری 2015 کو پيش کی گئی رپورٹ ميں انکشاف ہوا بلديہ فيکٹری ميں آگ لگی نہيں لگائی گئی تھی 23 فروری دوہزارسولہ کو ڈی آئی جی سلطان خواجہ کی سربراہی ميںجے آئی ٹی نے بھی يہی رپورٹ دی مقدمہ ميں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی بھی سفارش کردی 11 مارچ 2017 کو مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کرديا گيا19 ستمبر 2019مقدمہ ميں اہم موڑ آيا فیکٹری مالک ارشد بھائلہ نےويڈيو لنک کے ذريعے بيان ريکارڈ کرايا211 نومبر 2019 استغاثہ کی جانب سے شواہد مکمل ہوگئےعدالت نے چار سو گواہوں کے بيانات ريکارڈ کئيے3 فروری 2020 کو فريقين کے وکلا کے حتمی دلائل کا آغاز ہوا2ستمبر کو دلائل مکمل ہونے پر فيصلہ محفوظ کيا گيا

فائل فوٹو: رحمن بھولا

بلدیہ فیکٹری کیس میں اہم تفصیلات: بلدیہ فیکٹری آگ تيزی سے پھيل چکی تھی ہر طرف چيخ و پکار اور آہ وبکا کی آوازیں بلند ہورہی تھیںمسلسل رابطے کے باوجود فائر بریگیڈ آگ بجانے نہیں پہنچی فيلکٹری ملازممجید نے خود ہی دوڑ لگائی فائربریگیڈ لے تو آيا فائربریگیڈ کی گاڑی ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے بعد پہنچی آگ بجانے والی گاڑی اس وقت جب ڈھائی سوانسان جل کرخاک ہوچکے تھےبھتہ نہ دينے کی اِتنی بڑی سزا کہ دو سو انسٹھ زندگيوں کا خاتمہ کردیا گیاايم کيوايم کارکنوں نےفيکٹری مالکان کومزدوروںکی نمازجنازہ سے دھکے دے کرنکال ديا تھاملازم زبیرچریا نے فیکٹری میں ایم کیو ایم کا اثرورسوخ بڑھادیا تھا، ارشد بھائلہ کا ویڈیو لنک کے زریعے بیانپوری فیکٹری ایم کیو ایم کارکنوں کے کنٹرول ميں آچکی تھی، ارشد بھائلہبلديہ سيکٹرکی مالی سپورٹ کيلئےفيکٹری سےلاکھوں ماليت کا ويسٹيجفریال بیگ نامی شخص لےجاتا تھا،ارشد بھائلہ کا بیانماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کرتے تھے،ارشد بھائلہ لالچ بڑھتی گئی اور پھر جون 2012 میں سيکٹر انچارج ماجد بیگ نے کروڑوںروپے بھتے کا مطالبہ کیا، ارشد بھائلہيہيں سے بات بگڑی عبدالرحمان بھولا سميتايم کيوايم تنظیمی کميٹی کےانچارج حماد صديقی کےنام بھی سامنےآگیا، ارشد بھائلہ متاثرین کے لیےچھ کروڑ کے لگ بھگ معاوضے کی رقم تک ہڑپ لی گئی، ارشد بھائلہ سی پی ايل سی کے سابق سربراہ احمد چنائے کے ذريعے گورنر ہاؤسسے پيغام بھيجا گيا کہ ايم کيو ايم کے پليٹ فارم سے متاثرين کومعاوضہ دياجائے، ارشد بھائلہمعاوضہ دیا گیا تو معاملات ٹھيک ہوجائيں گے،ارشد بھائلہفيکٹری مالکان پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ بھتےکاذکرنہ کيا جائے دھمکياں بھی دی گئيں بالآخر مالکان کو جان بچانےکيلئے ملک چھوڑ کر جاناپڑا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close