Urdu

بارش کے بعد کراچی کی ابتر صورتحال پر سندھ ہائیکورٹ بھی رنجیدہ، سیکریٹری بلدیات طلب

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں مون سون بارش کے دوران کراچی ڈوبنے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کے لیے آئینی درخواست کی سماعت ہوئی جس کے دوران بارش کے بعد کراچی کی ابتر صورتحال پر سندھ ہائیکورٹ بھی رنجیدہ نظر آئی، عدالت نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو ذاتی حیثیت سے طلب کرلیا جبکہ کراچی کے مسائل کے مستقل حل کے لیے صوبائی حکومت سے روڈ میپ بھی طلب کرلیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے دیگر فریقین سے 28 اکتوبر کو تفصیلی جواب طلب کرلیا

دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئے کہ پورے شہر میں گٹر ابل رہے ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، ، کیا کراچی کی ابتر صورتحال کسی کو نظر نہیں آتی؟ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز سڑکوں پر کارپٹنگ بھی نہیں کراسکتے؟ بارش کے دوران اور بارش کے بعد سندھ ہائیکورٹ سمیت پورے شہر کی حالت کسی نے نہیں دیکھی؟ کراچی کے مسائل کے مستقل حل اور سدباب کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ریلیف نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت سے مل کر 11 سو ارب روپے کی لاگت مختلف منصوبوں پر کام شروع ہوگا، ، کراچی کے تمام منصوبے 3 سے 5 سال میں مکمل ہوں گے، اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئے کہ بارش میں کراچی ڈوبا ہوا تھا، شہری پریشان تھے، جس پر ایڈیشنل سیکرٹری ریلیف نے عدالت کو بتایا کہ اس بار 4 سو ملی میٹر بارش ہوئی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئے کہ زیادہ بارش ہوئی ہوگئی اس کے بعد جو کچھ کرسکتے تھے وہ تو کرتے،، شہر کا حشر دیکھا؟ سب لوگ پریشان ہیں، پتا نہیں آپ لوگ کیسے سکون سے بیٹھ جاتے ہیں، لوکل گورنمنٹ کے ادارے اپنے علاقوں میں جو کام کراسکتے تھے وہ بھی نہیں کررہے، جہاں جہاں بارش کا پانی جمع تھا اب وہاں گڑھے پڑ چکے ہیں،

بارش کے بعد کراچی کی ابتر صورتحال پر سندھ ہائیکورٹ بھی رنجیدہ، سیکریٹری بلدیات طلب https://regionaltelegraph.com/?p=8481

بارش کے بعد کراچی کی ابتر صورتحال پر سندھ ہائیکورٹ بھی رنجیدہ، سیکریٹری بلدیات طلبhttps://regionaltelegraph.com/?p=8481

Posted by Regional Telegraph on Wednesday, September 30, 2020

اس موقع پردرخواست گذار ندیم شیخ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بارش سے تباہی کی تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جاۓ، ، کراچی میں حالیہ بارش سے شہر مکمل طور پر مفلوج ہوگیا تھا، انتظامیہ کی غفلت نے شہریوں کو سخت اذیت میں مبتلا کیا، حالیہ بارش میں مختلف واقعات 41 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ تباہی سے انتظامیہ کی غفلت اور نااہلی بھی بے نقاب ہوئی، ان کی درخواست میں چیف سیکرٹری، گورنر ہاوس، وزیر اعلیٰ ہاؤس، محکمہ داخلہ سیکرٹری بلدیات، میٹروپولیٹن کمشنر،تمام کنٹونمنٹ بورڈز ،ایم ڈی واٹر بورڈ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close