Urdu

سندھ ہائی کورٹ: سانحہ بلدیہ میں سزائے موت پانیوالے مجرموں کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور

کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس ،مجرم عبدالرحمن عرف بھولا، زبیر چریا سمیت 5 مجرموں کی اپیل سماعت ہوئی جس میں عدالت نے عبدالرحمن بھولا، زبیر چریا، فضل احمد ، حکیم اور ارشد محمود کی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کرلیں اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو نوٹس جاری کردیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے فریقین سے اے ٹی سی کے فیصلے کی کاپی اور کیس کا ریکارڈ چار ماہ میں طلب کرلیا

یہ بھی پڑھیں

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس، عبد الرحمان بھولا اور زبیر چریا نے سزاۓ موت کو چیلنج کردیا

آٹھ سال بعد سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ ، رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت ، روف صدیقی بری، حماد صدیقی مفرور قرار

انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزا پانیوالے مجرموں نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ آگ لگی تو فیکٹری کے دروازے بندے تھے اور یہ دروازے فیکٹری مالکان کے حکم پر لاک کئے گئے، مزدوروں کے اخراج کے لیے کوئی ہنگامی راستہ موجود نہیں تھا، تین منزلہ عمارت کے داخلے اور اخراج کا ایک ہی راستہ تھاجبکہ فیکٹری کی کھڑکیوں کو آہنی سلاخوں سے پیک کردیا گیا تھا۔ اپنی اپیل میں ان مجرموں کا کہنا تھا کہ ہنگامی اخراج نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین جاں بحق ہوئے جبکہ متعلقہ محکموں نے بددیانتی اور غفلت کا مظاہرہ کیا۔ فیکٹری مالکان اور متعلقہ محکموں کی غفلت سے معصوم لوگ جاں بحق ہوئے لہذا مالکان اور متعلقہ محکمے ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی رپورٹ میں پولیس نے فیکٹری مالکان کو ہی نامزد کیا تھا تاہم جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں اصل ملزمان (فیکٹری مالکان) کو بری الزمہ قرار دیا گیا ۔ ان مجرموں کا مزید کہنا ہے کہ فیکٹری مالکان نے کبھی کسی کو نامزد نہیں کیا لہذا اے ٹی سی کا فیصلہ انصاف کے طے شدہ اصولوں کے خلاف ہے، ماتحت عدالت نے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور نہ ہی جوڈیشل مائنڈ اپلائی کیا، ٹرائل کورٹ میں واقعہ سے متعلق کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش نہیں کی گئی، ہم پر بھتہ مانگنے کا الزام عائد کیا گیا مگر کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا، لہذا انسداددہشت گردی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ انسداددہشت گردی عدالت نے مجرم رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 بار سزائے موت سنائی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close