Urdu

سندھ ہائیکورٹ کا سلور سینڈز کلفٹن کے متاثرین کی داد رسی سے انکار، بیشتر متاثرین انصاف کے انتظار میں انتقال کرچکے

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سلور سینڈز کلفٹن کے منصوبے کے نام پر کئے گئے فراڈ کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے حوالے سے داد رسی سے انکار کردیا ہے اور عدالت نے متاثرین کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں سلور سینڈز کلفٹن کے منصوبے کے نام پر 6 سو شہریوں سے فراڈ کرنیوالے بلڈر سکندر عبدالکریم کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی جس کے دوران جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دئے کہ ہمارے پاس صرف ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواست ہیں معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ ٹرائل کورٹ دیکھے گی،اگر متاثرین کو خدشات ہیں تو وہ بلڈر سے معاوضے کی ادائیگی کے لئے ٹرائل کورٹ میں درخواستیں دیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ بلڈر نے 1992 میں منصوبے کی بکنگ کی اور آج تک فلیٹس ہی نہیں بنائے، اب بلڈر ہمیں صرف 17 لاکھ روپے معاوضے دینے کو تیار ہے جس کی آج کل کلٹس گاڑی بھی نہیں آتی ہے۔ شہریوں نے عدالت کو بتایا کہ بیشترمتاثرین تو اس انتظار میں انتقال کرچکے ہیں جو زندہ بچے وہ فلیٹس کا مطالبہ کرنے جاتے ہیں بلڈر دھکے دے کر بھگا دیتا ہے، وکیل درخواست گذار نے عدالت کو بتایا کہ 6 سو شہریوں نے منصوبے میں فلیٹوں کی بکنگ کرائی تھی، 580 نے تو کسی فورم پر رابطہ ہی نہیں کیا، بعد ازاں عدالت نے ملزمان کی ضمانت میں 17 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close