Urdu

نیب نے شہباز شریف کے تفتیش میں عدم تعاون کی رپورٹ جمع کرادی، انیل مسرت کا بھی ذکر

لاہور: احتساب عدالت لاہور،منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف سے کی گئی تفتیشی رپورٹ جمع کرادی گئی۔ اسپیشل پراسکیوٹر نیب بیرسٹر عثمان جی راشد چیمہ نے رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہباز شریف نےدوران جسمانی ریمانڈتفتیشی افسروں سے کوئی تعاون نہیں کیا، نیب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لندن فلیٹس کی خریداری کیلئے حاصل غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی سے متعلق شہباز شریف کے ڈکلیئرڈ اثاثوں میں کوئی ذکر نہیں ، شہباز شریف نے واضح نہیں کیا کہ وہ غیر ملکی قرضوں کی 4 ہزار پاﺅنڈ ماہانہ قسط کس ذریعے سے ادا کرتے رہے ہیں، نیب رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف نے غیر ملکی بینک کے قرضے کی ادائیگی سے متعلق دستاویز پیش نہیں کیں، انہوں نے دستاویزات کے ذریعے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ انہوں نے فلیٹس کے کرائے کی آمدن سے قرضے ادا کئے، نیب رپورٹ کے مطابق 3 اکتوبر کو دوران ریمانڈ شہباز شریف کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف اور اثاثوں سے متعلق سوالنامہ دیا گیا، شہباز شریف نے اپنے سابق تحریری جوابات میں لندن فلیٹس کے قرضے انیل مسرت کی جانب سے ادا کرنے ذکر کیا، شہباز شریف نے 2008 ءسے 2019ءتک پرائیویٹ افراد سے قرضے لینے کا ذکر الیکشن کمیشن کی دستاویزات میں کیا ہے، رپورٹ کے مطابق شہباز شریف سے ان تمام پرائیویٹ افراد کے نام، رقم، قرض کے مقاصد، قرض کی واپسی سمیت دیگر دستاویزات مانگی گئیں، شہباز شریف نے سابق جوابات میں اپنی بھتیجی اسماءڈار، داماد ہارون یوسف عزیز سمیت دیگر افراد سے گفٹ وصول کرنے کا دعوی کیا، شہباز شریف سے تحفے دینے والوں کے نام، تحفے کی رقم اور تحفے کے مقاصد سمیت دیگر دستاویزات مانگی گئیں، شہباز شریف نے 2 جون 2020ءکے تحریری جواب میں کرائے کی مد میں ملنے والی رقم کو اپنی آمدن ظاہر کیا، شہباز شریف سے ان تمام جائیدادوں کے کرایہ نامے اور آمدن کی تفصیلات مانگی گئی ہیں ، 2018ءسے صرف ایک فلیٹ شہباز شریف کی ملکیت میں ہے جو کہ انکے اہلخانہ کے زیر استعمال ہے ، شریف سے انکے ملکیتی فلیٹ کے قرض کی رقم کی ادائیگی کیسے ہور ہی ہے اس سے متعلق تحریری سوال پوچھا گیا، 2019ءمیں شہباز شریف نے الیکشن کمیشن دستاویزات میں 2 لاکھ 63 ہزار 130 پاﺅنڈ قرضہ پرائیویٹ افراد سے لینے کا ذکر کیا، شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ چاروں فلیٹس کے قرضے انیل مسرت نے ادا کئے ، شہباز شریف سے پرائیویٹ افراد سے لئے گئے قرضے اور ان کے بدلے میں موجود اثاثوں کی تفصیلات مانگی گئی ہیں ، شہباز شریف نے 2009سے 2018 ءتک 14 کروڑ 46 لاکھ 76 ہزار روپے کی کاروباری آمدن بھی ظاہر کی ہے، شہباز شریف نے اپنے اس آمدنی والے کاروبار تفصیلات اور خراجات کی تفصیل بھی نہیں دی۔ رپورٹ میں نیب نے بتایا کہ شہباز شریف کو جسمانی ریمانڈ کے دوران ان کے وکیل سے ملاقات کا موقع بھی دیا گیا، دوران ریمانڈ شہباز شریف کو وراثت میں ملنے والی رمضان شوگر ملز سے متعلق بھی تفتیش کی گئی، 2011 ءمیں شہباز شریف نے بحریہ ٹاﺅن سے جائیداد کی فروخت کی مد میں 20 کروڑ روپے وصول کئے، شہباز شریف نے 136 کنال زمین 2011 ءمیں اور 106 کنال زمین 2018 ءمیں فروخت کی مگر اس کی کوئی وضاحت نہیں دی، شہباز نے زمین کی فروخت سے متعلق کہا کہ وہ پہلے ہی اس کا جواب دے چکے ہیں دوبارہ کوئی جواب نہیں دیں گے، شہباز شریف نے جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیش میں کوئی تعاون نہیں کیا اور نہ ہی کسی سوال کا جواب دیا، 12 اکتوبر کو شہباز شریف کو لندن فلیٹس سے متعلق ایک اور سوالنامہ دیا گیا ہے جس کا جواب لینا باقی ہے،نیب رپورٹ کے مطابق 1998 ءمیں شہباز شریف خاندان کے 14 اعشاریہ 865 ملین روپے کے اثاثے تھے، 2018ءتک ملزم شہباز شریف نے اپنے خاندان کے افراد اور بے نامی داروں کی ملی بھگت سے 7 ارب سے زائد کے غیر قانونی اثاثے بنائے، 2011 ءسے 2015ءمیں شہباز شریف نے 1.368 ملین پاﺅنڈ مالیت کی بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، شہباز شریف کے مختلف تحریری جوابات میں تضاد پایا گیا ، تحائف اور قرضے حاصل کرنے سے متعلق مختلف افراد کے نام تحریری طور پر بتائے جن میں تضاد پایا گیا ہے، شہباز شریف نے تحریری سوالنامہ فراہم کرنے اور اپنے وکیل سے مشاورت سے کیلئے وقت مانگا ہے ،شہباز شریف نے کاروباری معاملات کی نگرانی کرنیوالے ملازم سے متعلق سوال پر مرحوم ملازم ندیم خان کا نام ظاہر کیا، 2017 میں وفات پانیوالے ملازم ندیم خان کے بعد ذمہ دار ملازم سے متعلق شہباز شریف نے کچھ نہیں بتایا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close