Urdu

کراچی کی 80فیصد عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی راستہ موجود نہیں، سندھ ہائیکورٹ میں انکشاف

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے فائر قوانین نہ ہونے سے متعلق درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ دوران سماعت سول ڈیفنس کے ڈپٹی کنٹرولر اور فوکل پرسن شاہد منصور نے بڑا انکشاف کردیا کہ شہر کی 80 فیصد عمارتوں میں آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی راستہ موجود نہیں ہے، فوکل پرسن سول ڈیفنس شاہد منصور کے مطابق شہر کی 80 فیصد عمارتوں میں نہ تو ہائیڈرنٹ ہیں اور نہ ہی حفاظتی اقدامات ہیں، بہت سارے ملٹی اسٹوریز بلڈنگز میں فائر برگیڈ کے جانے کا راستہ تک نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے چیف فائر آفیسر کے انکشافات پر کمشنر کے ایم سی کو ذاتی حثیت میں طلب کرلیا۔ چیف فائر آفیسر کے مطابق شہر میں فائر برگیڈ کی صرف14 گاڑیاں کام کررہی ہیں جبکہ 30 گاڑیاں خراب پڑی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فائر برگیڈ کا ایمرجنسی نمبر 16 بھی ابھی خراب پڑا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈویژن انجئینر نیشنل ٹیلی کمیونیکشن کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close